امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف کی اجازت دینے والے بل کی منظوری کے بعد بھارت نے اپنی توانائی سیکیورٹی پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالات کے مطابق مختلف ذرائع سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔
امریکی دباؤ کے باوجود بھارت کا توانائی سیکیورٹی پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان
نئی دہلی: بھارت نے امریکہ کی جانب سے روسی تیل خریدنے والے ممالک کے خلاف ممکنہ نئے تجارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی توانائی سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی ایوان نمائندگان نے روس کے خلاف پابندیوں اور ٹیرف سے متعلق ایک وسیع بل منظور کیا ہے، جس کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی توانائی خریدنے والے ممالک، جن میں بھارت اور چین بھی شامل ہیں، پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔ بل اب صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیجا گیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی اپنی عوام کے لیے توانائی سیکیورٹی یقینی بنانے کے عزم پر قائم ہے اور مارکیٹ کے حالات کے مطابق مختلف ذرائع سے توانائی کی فراہمی حاصل کرتا رہے گا۔
بھارتی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ نئی دہلی نے حالیہ مہینوں میں امریکی حکام کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے ممکنہ اقدامات کے بھارت-امریکہ تعلقات اور عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات سے بھی آگاہ کیا ہے۔
بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے اور روسی تیل اس کی توانائی ضروریات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ روسی خام تیل کی خریداری میں اضافے نے بھارت کو نسبتاً سستی توانائی کی فراہمی حاصل کرنے میں مدد دی ہے، جبکہ نئی دہلی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی ترجیح اپنے عوام اور معیشت کے لیے محفوظ، قابلِ اعتماد اور مناسب قیمت پر توانائی کی فراہمی ہے۔
رائٹرز کے مطابق بھارتی ریفائنرز نے ستمبر اور اکتوبر کے لیے ایسی تیل کی سپلائی بھی ترتیب دی ہے جس میں روسی خام تیل شامل ہے۔ بھارتی ریفائننگ شعبے سے وابستہ ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر نئے ٹیرف نافذ ہوئے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے اور ریفائنرز کے منافع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے بل منظور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف نافذ ہوگیا ہے۔
موجودہ قانون سازی صدر ٹرمپ کو ایسے ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار فراہم کرتی ہے جو روسی توانائی خریدتے ہیں۔ بل کو قانون بننے کے لیے مزید قانونی مرحلے سے گزرنا ہوگا اور صدر ٹرمپ کے دستخط بھی درکار ہیں۔
نئے امریکی اقدامات سے بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات بھی مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
Reuters کے مطابق دونوں ممالک ابھی تک ایک وسیع تجارتی معاہدے پر اتفاق نہیں کرسکے۔ بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل رواں ماہ G20 وزرائے تجارت کے اجلاس کے لیے امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کے ساتھ تجارتی معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔
بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق روسی تیل کا معاملہ اب صرف توانائی یا تجارت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بھارت اور امریکہ کے وسیع تر اقتصادی تعلقات کے لیے بھی اہم مسئلہ بن گیا ہے۔بھارتی ریفائنرز نے امریکی حکام سے ممکنہ نرمی یا ایسی رعایت کی درخواست کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے جس سے پہلے سے کیے گئے روسی تیل کے معاہدوں کو مکمل کرنے اور مستقبل کی خریداری کے لیے کوئی مخصوص کوٹہ مقرر کرنے کی گنجائش پیدا ہو۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال میں تیل کی سپلائی پہلے ہی کئی جغرافیائی بحرانوں سے متاثر ہے، اس لیے روسی تیل کی سپلائی میں بڑی کمی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں اور دستیابی پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
بھارت نے فی الحال روسی تیل کی خریداری ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا بلکہ توانائی کی مختلف ذرائع سے فراہمی جاری رکھنے اور اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ روس کی توانائی آمدنی پر دباؤ بڑھانے کے لیے روسی تیل خریدنے والے بڑے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں آنے والے دنوں میں امریکہ، بھارت اور روس کے درمیان توانائی، تجارت اور سفارتی تعلقات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
ذرائع: Reuters، بھارتی وزارت خارجہ، امریکی قانون سازی سے متعلق رپورٹس
ویب ڈیسک — Asian Century News