ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ جنرل اسمبلی میں ایران کا مؤقف پیش کرنے کے ساتھ مختلف ممالک کے حکام اور وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں اور مشاورت کریں گے۔
ایران کا امریکا کے خلاف بڑا سفارتی محاذ، عراقچی نیویارک پہنچ گئے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی سفارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق عراقچی جنرل اسمبلی کے مختلف اجلاسوں میں شرکت کریں گے، ایران کے مؤقف کو پیش کریں گے اور اجلاس میں شریک متعدد حکام اور وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں اور مشاورت کریں گے۔
نیویارک پہنچنے کے بعد عراقچی نے کہا کہ ایران کی اہم ترین ترجیح ایک بڑے عالمی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق، مفادات اور مؤقف کا دفاع کرنا ہے۔
عراقچی کی نیویارک آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، ایران امریکا تعلقات اور جنگ کے خاتمے کے امکانات اہم سفارتی موضوعات بنے ہوئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق نیویارک میں موجود ایرانی وفد کو سفارتی مذاکرات آگے بڑھانے کا اختیار بھی حاصل ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک ہفتے کے اندر دوبارہ کھولنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے، بشرطیکہ امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ایران کے لیے عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنے اور دیگر ممالک کے حکام سے سفارتی رابطوں کا ایک اہم موقع بن گیا ہے۔