آبنائے ہرمز میں تین آئل ٹینکروں میں آگ لگنے کا ایرانی دعویٰ، بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کا الزام
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران تین آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ برطانوی بحری نگرانی کے ادارے نے بھی علاقے میں ایک جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔

علامتی تصویر
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، تینوں جہازوں نے اپنے ریڈار اور نیویگیشن نظام بند کر رکھے تھے اور ایرانی بحریہ کی وارننگ کو نظرانداز کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ آگ لگنے کے بعد جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی ساحلی علاقے میں چھوڑ دیے گئے۔ تاہم، ایرانی بیان میں جہازوں کے نام، ان کے جھنڈوں اور عملے کی حالت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے غیر مجاز جنوبی راستے میں بارودی سرنگیں موجود ہیں۔ اس نے جہازوں کے مالکان اور عملے کو خبردار کیا کہ وہ ایرانی حکام کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستوں سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔ ایرانی حکام نے امریکی فوج کے ان بیانات پر بھی سوال اٹھایا جن میں اہم بحری راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کی بات کی گئی تھی۔
دوسری جانب، برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے، یو کے ایم ٹی او، نے جمعرات کو اطلاع دی کہ عمان کے علاقے خصب سے تقریباً نو بحری میل شمال میں آبنائے ہرمز کے اندر ایک جہاز میں آگ لگی دیکھی گئی۔ ادارے کے مطابق، اسے یہ اطلاع ایک دوسرے جہاز کے کپتان سے موصول ہوئی۔ تاہم، ابتدائی اطلاع میں آگ لگنے کی وجہ، ممکنہ جانی نقصان یا جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔


