ایران کا خلیجی انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کا مبینہ منصوبہ، امریکی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی تیاری
رائٹرز کے مطابق، ایرانی سکیورٹی حکام نے ممکنہ امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں خلیج کی زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں کا ذکر کیا ہے۔ ایسی کارروائی سے خطے میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل خدمات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

علامتی تصویر
زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان انٹرنیٹ اور ڈیٹا کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعے بینکنگ، کاروباری لین دین، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ویڈیو رابطوں اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے لیے ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔ خلیجی خطے میں ان کیبلز کو نقصان پہنچنے سے بعض ممالک میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے، رابطوں میں خلل اور آن لائن خدمات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس موجود کیبلز کو نقصان پہنچنے کا اثر سب سے زیادہ ان رابطوں اور ممالک پر پڑ سکتا ہے جو ان راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، دنیا بھر کے انٹرنیٹ کی بندش کا نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں، کیونکہ عالمی نیٹ ورک میں متعدد متبادل سمندری اور زمینی راستے بھی موجود ہیں۔ پاکستان، بھارت اور دوسرے ممالک پر اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ان کے ڈیٹا ٹریفک کے راستے کس حد تک متاثر ہوتے ہیں۔


