حوثیوں کے معاملے پر ایران کی سفارتی پیش رفت، فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی حل کی تجویز
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ایران نے حوثیوں کے معاملے کو فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ریاض میں مشاورت بھی متوقع ہے۔

علامتی تصویر
اسحاق ڈار کے بیان کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنے کے خواہاں ہیں۔ تاہم اس تجویز کو کسی حتمی معاہدے یا باقاعدہ تحریری منصوبے کے بجائے ابتدائی سفارتی رابطوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سعودی دارالحکومت ریاض میں مشاورت متوقع ہے۔ ان رابطوں میں یمن کی صورتحال، حوثیوں سے متعلق کشیدگی اور خطے میں ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی امکانات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔
حوثیوں کا معاملہ مشرق وسطیٰ کی علاقائی سلامتی اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ اس تناظر میں ایران کی جانب سے سیاسی حل کی تجویز اور علاقائی ممالک کے درمیان مشاورت کو سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کے معاملے پر کسی حتمی فیصلے یا عملی اقدام کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ آئندہ سفارتی رابطوں اور متعلقہ فریقوں کے باضابطہ مؤقف سے ہی معلوم ہو سکے گا کہ یہ کوششیں کسی قابلِ عمل حل کی طرف بڑھتی ہیں یا نہیں۔


