ایران میں جنگ کے بعد سب سے بڑی ریلی، لاکھوں افراد سڑکوں پر
تہران میں جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کی سب سے بڑی حکومت کے زیرِ اہتمام ریلی منعقد ہوئی، جس میں ایرانی حکام کے مطابق 3 لاکھ 13 ہزار افراد شریک ہوئے، تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

علامتی تصویر
ایرانی حکام کے مطابق ریلی میں 3 لاکھ 13 ہزار افراد شریک ہوئے، تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ ریلی کے دوران شرکاء نے ایرانی پرچم اٹھائے اور ملک کے دفاع کے لیے رضاکارانہ فورس میں شمولیت کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
ریلی میں ڈرونز، طیارہ شکن نظام اور دیگر فوجی سازوسامان بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق رضاکارانہ فورس میں شمولیت کے لیے 6 لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ حکام بھی ریلی میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر جنگ کے دوران قومی اتحاد اور ملک کے دفاع سے متعلق پیغامات نمایاں رہے۔
یہ ریلی ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری ہے اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ تہران میں ہونے والے اس اجتماع کو جنگ کے آغاز کے بعد ایران میں ہونے والی بڑی عوامی ریلیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام نے ریلی میں شرکاء کی تعداد 3 لاکھ 13 ہزار بتائی ہے، تاہم آزاد ذرائع سے اس تعداد کی مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
ماخذ: Associated Press، Al Jazeera


