امریکی نائب صدر کا ایرانی سکیورٹی سربراہ کو خط، مذاکرات کی بحالی کی کوشش
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایرانی سکیورٹی سربراہ محسن رضائی کو خط بھیجنے کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق رابطے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لینا تھا، تاہم خط کے مقصد کے بارے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف وضاحت پیش کی۔

علامتی تصویر
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ رابطہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر کو ہونے والے ہیں، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے خلیجی ممالک کو انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں تیاری رکھنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم، دستیاب رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کسی نئی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسِیوس نے بھی بدھ کو ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ وینس کے خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت ضروری ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق، وینس نے صدر ٹرمپ کے سامنے محسن رضائی کو خط بھیجنے کی تجویز رکھی تھی۔ رضائی ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں میں شمار ہوتے ہیں اور ماضی میں اسلامی انقلابی گارڈز کور کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کی تردید کی کہ انہوں نے وینس کو ایران کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو طبی سامان اور دیگر ضروری اشیا کی ضرورت ہے اور وینس نے اس سلسلے میں ان سے رائے لی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے وینس کو رابطے کی اجازت دی، لیکن اس کا مقصد بیمار افراد کے لیے طبی سامان کی فراہمی تھا۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس خط یا رابطے کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ امریکی نائب صدر کے ترجمان نے رابطے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ انہیں اس معاملے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ محسن رضائی اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل دستیاب نہیں ہوا۔


