Opinion
جی 20 اجلاس: امریکہ کا بڑا اعلان ایران اور چین پر پھر معاشی دباؤ بڑھانے کی تیاریاں
جی 20 اجلاس: امریکہ کا معاشی ایجنڈا، ایران اور چین کو نشانہ بنانے کی تیاری
By Abdul Rafay·September 6, 2026·2 min read·27 views
Asian Century Newsایشویل، امریکہ: جی 20 کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کا 2 روزہ اجلاس امریکہ کے شہر ایشویل میں شروع ہو گیا ہے۔
عالمی خبر ایجنسی کے مطابق اجلاس میں دنیا کی سست معاشی نمو، بڑھتے ہوئے عالمی قرضے، تجارتی عدم توازن اور توانائی کے بحران جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے۔
اجلاس کے افتتاحی خطاب میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے دنیا کو تیز معاشی ترقی کی طرف جانے پر زور دیا۔
بیسنٹ کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے عالمی معیشت اپنی مکمل صلاحیت سے کم پر چل رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی مالیاتی بحران، کورونا اور بڑھتے قرضوں کی وجہ سے دنیا پر قرضے کا بوجھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ رواں سال عالمی قرضہ تقریباً 353 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ دنیا سرمایہ کاری کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھائے کیونکہ عالمی سطح پر بچت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے جی 20 ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ چین سے تجارتی تعلقات کی شرائط کا ازسرنو جائزہ لیں اور اگر ضرورت پڑے تو اضافی تجارتی رکاوٹوں پر غور کیا جائے۔
بیسنٹ کا کہنا تھا کہ چین اپنی معیشت کو صرف برآمدات پر چلا رہا ہے جس کی وجہ سے تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر کا تجارتی سرپلس پیدا ہو رہا ہے۔ یہ عالمی معیشت کے لیے بڑا عدم توازن ہے۔ انہوں نے صنعتی سبسڈیز اور کمزور گھریلو طلب کو بھی عالمی سطح پر زیر بحث لانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے جی 20 پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے اتحادی ممالک کو ایران کے خلاف مزید اقتصادی اقدامات میں شامل کرنے کی کوشش کی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایران کے بینکوں پر مزید پابندیاں لگائی جائیں گی اور ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کیا جائے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران پر اقتصادی دباؤ کی مہم کو مزید تیز کیا جائے گا، لیکن اس حکمت عملی کو بناتے وقت خطے کی صورتحال اور عالمی تیل کی قیمتوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
