Opinion
ٹرمپ کا دو طرفہ مؤقف ایک طرف جنگ ختم کرنے کی حمایت دوسری طرف 50 ہزار فوج بھی بڑھا دی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔ تاہم دوسری جانب امریکہ نے 2027 تک مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
By Abdul Rafay·September 6, 2026·1 min read·28 views
Asian Century Newsوال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام ایران کے ساتھ خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگ کو روکا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے ذاتی طور پر اس تجویز کی حمایت کی ہے۔
لیکن حیران کن طور پر اسی دوران پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ 2027 تک مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار فوجی تعینات رکھے گا۔ یہ تعداد گزشتہ سالوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک پوسٹ میں کہا: "مجھے ہماری موجودہ صورتحال بہت پسند ہے"۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دوہرا مؤقف ایران پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ایک طرف امن کی بات کی جا رہی ہے تو دوسری طرف فوجی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی رہنما خطے میں جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران ٹرمپ کی اس تجویز کو کس طرح لیتا ہے اور کیا واقعی خطے میں امن قائم ہو پاتا ہے یا کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔
