BREAKING · Live
No breaking news right now
View all
ACN — Asian Century NewsAsian Century NewsTruth. Insight. Impact.
WorldPoliticsBusinessTechnologyOpinionClimateSportMore
Back to Opinion
Opinion

دنیا میں طاقت کی نئی بساط؟ ایران، چین، امریکا اور تائیوان کے بدلتے تعلقات

ایران، چین، امریکا اور تائیوان سے متعلق حالیہ پیش رفت عالمی سیاست میں طاقت، سفارت کاری، توانائی اور علاقائی اثر و رسوخ کے بدلتے توازن کی ایک پیچیدہ تصویر پیش کر رہی ہے۔

By Site Administrator·September 22, 2026·4 min read·27 views
دنیا میں طاقت کی نئی بساط؟ ایران، چین، امریکا اور تائیوان کے بدلتے تعلقات

علامتی تصویر

تحریر: ایم علی لاشاری 

دنیا میں طاقت کی نئی بساط؟

عالمی سیاست میں بعض اوقات ایک ہی دن کے واقعات بظاہر الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب انہیں ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے۔ ایران، چین، امریکا اور تائیوان سے متعلق حالیہ پیش رفت بھی اسی نوعیت کی ہے۔

ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں، دوسری طرف اسی نیویارک میں امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان طویل سفارتی رابطہ سامنے آتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان تقریباً تین گھنٹے ملاقات ہوئی۔ ٹرمپ نے اس رابطے کو “بہت اچھی” ملاقات قرار دیا اور کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

یہ تضاد معمولی نہیں۔ اگر صرف بیانات دیکھے جائیں تو واشنگٹن اور تہران کے درمیان فاصلے بہت زیادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن عملی سفارت کاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں طرف رابطے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

عراقچی کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچنا بھی اسی سفارتی عمل کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم دنیا کے بڑے ممالک کو ایک ہی جگہ جمع کرتا ہے، جہاں رسمی اجلاسوں کے ساتھ ساتھ مختلف فریقوں کے درمیان براہِ راست اور غیر رسمی سفارتی رابطے بھی ہوتے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی ملک کے اعلیٰ حکام کا عالمی سفارتی پلیٹ فارم پر موجود ہونا خود بخود اس ملک کی فتح یا مخالف کی شکست ثابت نہیں کرتا۔ البتہ یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ تنازع کے باوجود سفارتی راستے مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

اس پوری صورتحال میں آبنائے ہرمز بھی ایک اہم عنصر بن کر سامنے آتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے تو تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔

آبنائے ہرمز صرف ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات کا معاملہ نہیں۔ یہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی تیل منڈی، ایشیائی معیشتوں اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔

دوسری طرف چین بھی اس بڑے منظرنامے سے باہر نہیں۔ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تائیوان، تجارت اور عالمی طاقت کے توازن جیسے کئی بنیادی اختلافات موجود ہیں۔ تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت بھی چین اور امریکا کے درمیان حساس ترین معاملات میں شامل ہے۔

رائٹرز کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا معاملہ اٹھا سکتے ہیں۔

یوں ایران، تائیوان اور امریکا کے درمیان بظاہر الگ الگ دکھائی دینے والے معاملات بڑی طاقتوں کے باہمی تعلقات سے جڑنے لگتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا عالمی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں صرف فوجی طاقت کسی تنازع کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ توانائی، تجارت، پابندیاں، سفارت کاری، علاقائی اتحاد اور عالمی ادارے بھی اتنے ہی اہم عوامل بن جائیں گے؟

ایران کے معاملے میں آبنائے ہرمز ایک جغرافیائی راستے سے بڑھ کر سفارتی leverage بن رہا ہے۔ تائیوان کے معاملے میں امریکی ہتھیاروں کی فروخت چین اور امریکا کے تعلقات کو متاثر کرنے والا بنیادی مسئلہ ہے، جبکہ اقوام متحدہ مخالف ممالک کو ایک ہی عالمی پلیٹ فارم پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اسی لیے آج کی دنیا کو صرف “کون جیتا اور کون ہارا” کے سوال سے سمجھنا مشکل ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنے مفادات کو مذاکرات کی میز تک لے جانے کی بہتر پوزیشن میں ہے اور کون اپنے لیے زیادہ سفارتی گنجائش پیدا کر سکتا ہے؟

نیویارک میں عراقچی اور وٹکوف کی تقریباً تین گھنٹے کی ملاقات اسی بڑے سوال کی ایک تازہ مثال ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں، مگر رابطہ بھی موجود ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان تائیوان پر اختلاف برقرار ہے، مگر دونوں بڑی طاقتیں ایک دوسرے سے مسلسل مذاکرات بھی کرتی ہیں۔

یوں دنیا شاید کسی ایک طاقت کی مکمل فتح کی طرف نہیں، بلکہ طاقت کے نئے توازن، مسلسل دباؤ اور سفارتی رابطوں کے ایک پیچیدہ دور کی طرف بڑھ رہی ہے۔

اور شاید یہی آج کی عالمی سیاست کی اصل بساط ہے۔
#ایران، امریکا، چین، تائیوان، ڈونلڈ ٹرمپ، شی جن پنگ، عباس عراقچی، اسٹیو وٹکوف، آبنائے ہرمز، اقوام متحدہ، عالمی سیاست، جغرافیائی سیاست

More in Opinion

ACN — Asian Century NewsAsian Century News
Opinion

ٹرمپ کا دو طرفہ مؤقف ایک طرف جنگ ختم کرنے کی حمایت دوسری طرف 50 ہزار فوج بھی بڑھا دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی ختم کرنے کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔ تاہم دوسری جانب امریکہ نے 2027 تک مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی تعیناتی بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

By Abdul RafaySep 6, 2026
Read more
ACN — Asian Century NewsAsian Century News
Opinion

جی 20 اجلاس: امریکہ کا بڑا اعلان ایران اور چین پر پھر معاشی دباؤ بڑھانے کی تیاریاں

جی 20 اجلاس: امریکہ کا معاشی ایجنڈا، ایران اور چین کو نشانہ بنانے کی تیاری

By Abdul RafaySep 6, 2026
Read more
ACN — Asian Century NewsAsian Century News

Independent journalism. Global perspective. Real impact.

Explore

  • World
  • Politics
  • Business
  • Technology
  • Climate
  • Sport
  • Video
  • Explore

About

  • About Us
  • Our Team
  • Careers
  • Press Room

Support

  • Help Center
  • Contact Us
© 2026 Asian Century News. All rights reserved.·Created by: TZT Software Solution
Privacy PolicyTerms of Service