محسن رضائی کا امریکا کو انتباہ، ایران فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار
ایران کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کے لیے تیار ہے، جبکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے تہران نے اپنی شرائط ثالثوں تک پہنچا دی ہیں۔

علامتی تصویر
محسن رضائی نے کہا کہ تہران امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لیے اپنی شرائط قطری اور پاکستانی ثالثوں تک پہنچا چکا ہے اور اب ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
رضائی کے مطابق ایران کی بنیادی شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں اور رقوم کی بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ان شرائط سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن ایران کی شرائط تسلیم نہیں کرتا تو ایران فیصلہ کن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ رضائی کے مطابق ایران امریکی فوج کی کمزوریوں سے واقف ہے اور امریکی فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو تہران خطے میں امریکی اڈوں اور امریکی مفادات کو زیادہ شدت سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان رضائی کے مؤقف کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رضائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے حال ہی میں ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب اینٹی شپ میزائل کا تجربہ کیا۔ اس دعوے کی آزادانہ فوجی تصدیق دستیاب رپورٹنگ میں سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے محسن رضائی کے دعوے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سیکیورٹی چیف نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جاری تنازع کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ ان کے مطابق حوثی بھی ریاض کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہاں ہیں۔
محسن رضائی کے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کے ساتھ ایران کی فوجی تیاری کا بھی واضح پیغام دیا گیا ہے۔ تاہم امریکا کی جانب سے ان مطالبات اور رضائی کے بیانات پر آئندہ ردعمل اس معاملے کی سمت کے لیے اہم ہوگا۔


