پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی، کابل کا 9 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ
پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں فضائی کارروائی کی گئی۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے ابتدائی اطلاعات کی بنیاد پر 22 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ افغان طالبان حکومت کے مطابق حملوں میں 9 خواتین اور بچے جاں بحق اور 11 شہری زخمی ہوئے۔

تصویر فضائی حملے کی نمائندگی اور صحافتی و معلوماتی مقاصد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ اصل جائے وقوعہ و حملے کی تصویر نہیں ہے۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے مطابق کارروائی افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی۔ وزارت نے ابتدائی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملوں میں 22 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائی حملوں میں کنڑ اور ہلمند کے علاقوں میں تین مکانات تباہ ہوئے۔ ان کے مطابق حملوں کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 11 شہری زخمی ہوئے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے مطابق دونوں جانب سے جانی نقصان کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے ہلاکتوں کی تعداد اور نشانہ بننے والے مقامات سے متعلق تفصیلات کو متعلقہ فریقوں کے دعووں کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور عسکریت پسندوں کی مبینہ موجودگی کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود بعض عسکریت پسند گروہ پاکستانی علاقوں میں حملوں میں ملوث ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔


