پیوٹن کی یورپی رہنماؤں سے 90 منٹ گفتگو، تاریخ پر لیکچر کے دعوے پر تنازع
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں سے 90 منٹ طویل گفتگو کے بارے میں فنانشل ٹائمز کی رپورٹ پر تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ ناروے اور فن لینڈ نے رپورٹ کے دعوے پر اعتراض اٹھایا ہے۔

علامتی تصویر
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے تین نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیوٹن نے گفتگو کا زیادہ تر وقت قرونِ وسطیٰ کی سلاوی تاریخ اور یوکرین جنگ کے پس منظر سے متعلق اپنے مؤقف کی وضاحت میں گزارا۔ اخبار کے مطابق، گفتگو ابتدا میں تقریباً 30 منٹ کے لیے طے کی گئی تھی، تاہم یہ بڑھ کر ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ روسی صدر نے جنگ کے خاتمے کے عملی اقدامات پر گفتگو کرنے کے بجائے اس تنازع کی تاریخی وجوہات پر زیادہ بات کی۔ فنانشل ٹائمز کے ذرائع کے مطابق، یوکرین کی جانب سے فوری جنگ بندی کے مطالبے پر گفتگو محدود رہی۔
ناروے کے وزیراعظم جوناس گار اسٹور نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فنانشل ٹائمز میں گفتگو کی جو تصویر پیش کی گئی، وہ درست نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت کے دوران پیوٹن نے 2014 کے بعد یورپ کی صورت حال اور جنگ سے متعلق معاملات پر گفتگو کی۔ اسٹور کے مطابق، انہوں نے اخبار سے رپورٹ کی تصحیح کا مطالبہ بھی کیا۔
فن لینڈ نے بھی ناروے کے ساتھ مل کر فنانشل ٹائمز سے رابطہ کیا اور رپورٹ میں بیان کردہ گفتگو کی تفصیلات پر اعتراض اٹھایا۔ تاہم، 28 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، فنانشل ٹائمز نے اپنی صحافتی رپورٹنگ کا دفاع کیا اور اسے تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔
اسٹوب اور اسٹور نے گفتگو کے بعد یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بھی رابطہ کیا۔ دونوں یورپی رہنماؤں نے روسی صدر کے ساتھ بات چیت کو یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے جوڑا۔ ان کے مطابق، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں کمی، جنگی کارروائیوں کو محدود کرنے اور قیدیوں کے تبادلے جیسے معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔


