پیوٹن ایران کے حق میں بول پڑے، ایرانی قوم کی بہادری اور ثابت قدمی کی تعریف
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی عوام کی بہادری، شجاعت اور اپنے قومی مفادات کے دفاع میں ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا ایرانی قوم کے حوصلے کو دیکھ رہی ہے۔

علامتی تصویر
پیوٹن نے یہ بیان یکم اکتوبر 2026 کو ماسکو میں منعقدہ والدائی بین الاقوامی مباحثاتی کلب کے اجلاس سے خطاب کے دوران دیا۔ وہ ایک ایرانی نمائندے کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔
روسی صدر نے ایرانی عوام کے عزم کو سراہتے ہوئے ایران کی سیاسی قیادت، مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایران میں ایسے افراد موجود ہیں جو اپنے ملک اور عوام کے مستقبل کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔
پیوٹن نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اہم سمندری راستے سے بحری آمدورفت دوبارہ معمول پر آجائے گی اور ایران پر عائد پابندیاں ختم ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ روس ان مقاصد کی حمایت کرتا ہے اور آبنائے ہرمز اور باب المندب سے بحری آمدورفت کی بحالی کو اہم سمجھتا ہے۔
روسی صدر نے ایران کے افزودہ یورینیم کے معاملے پر روس کی سابقہ پیشکش کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ماسکو اس مواد کو روس منتقل کرنے کی تجویز پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
پیوٹن نے بتایا کہ ماضی میں اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی، تاہم بعد میں مذاکراتی صورتحال تبدیل ہوگئی۔
پیوٹن نے ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کے قتل کو ایک بڑی غلطی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لاریجانی کو ذاتی طور پر جانتے تھے اور انہیں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا شخص سمجھتے تھے۔
پیوٹن کے خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات اور خطے کے معاملات میں اپنا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ روسی صدر نے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور خطے میں امن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تاہم ان بیانات کو ایران کے لیے کسی نئے روسی فوجی معاہدے یا براہِ راست فوجی مداخلت کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔


