پیوٹن کا یورپ کو سخت پیغام، روس جنگ نہیں چاہتا مگر لڑنے کے لیے تیار ہے
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یورپ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر یورپی ممالک جنگ کی تیاری کرنا چاہتے ہیں تو روس بھی اس کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی حد سے بڑھنے کی صورت میں کوئی فریق فاتح نہیں ہوگا۔

علامتی تصویر
جمعرات کو اپنے بیان میں پیوٹن نے یورپ میں روس کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے تیاریوں سے متعلق ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق یورپ میں بعض حلقے 2030 تک روس کے ساتھ جنگ کی تیاریوں کی بات کر رہے ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ جنگ کی تیاریوں پر توجہ دینے کے بجائے صورت حال کو اس نہج تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر یورپ کے بعض ممالک جنگ کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو روس اس کے لیے تیار ہے۔
پیوٹن نے خبردار کیا کہ اگر صورت حال مزید بگڑ گئی اور کشیدگی نے خطرناک رخ اختیار کر لیا تو اس کے نتیجے میں کسی کو کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق روس اور یورپ کے درمیان جنگ کے نتائج دونوں جانب کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
روسی صدر نے دونوں عالمی جنگوں کے تاریخی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس ان جنگوں سے ملنے والے اسباق کو اچھی طرح یاد رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ماضی جیسی بڑی جنگ دوبارہ شروع ہو۔
پیوٹن کا یہ بیان فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار اسٹورے کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آیا۔ دونوں رہنماؤں نے روسی صدر سے تقریباً 90 منٹ بات کی تھی۔ اس رابطے میں یوکرین کی جنگ اور روس کے ساتھ تعلقات سمیت علاقائی سلامتی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
روسی صدر نے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے اقدامات کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔ ان کے بیان میں ایک جانب یورپ کے ساتھ جنگ نہ چاہنے کا مؤقف سامنے آیا، جبکہ دوسری جانب ممکنہ فوجی تصادم کی صورت میں روس کی تیاری کا پیغام بھی دیا گیا۔


