امریکہ ایران کشیدگی ختم کرانے کے لیے قطر کی نئی سفارتی کوشش، ثالث دوبارہ تہران پہنچ گئے
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے قطر نے سفارتی کوششیں دوبارہ تیز کر دی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق قطری ثالث جمعے کو ایک بار پھر تہران پہنچے، جہاں امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے امن منصوبے پر پیش رفت کی کوشش کی جا رہی ہے۔

علامتی تصویر
رپورٹ کے مطابق قطر کے ثالثی مشن کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنا اور ایسے معاملات پر پیش رفت کی راہ تلاش کرنا ہے جن پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ اس سفارتی کوشش کے دوران قطری حکام واشنگٹن کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں۔
قطر اس سے قبل بھی ایران کے سامنے ایک امن منصوبے کا مسودہ پیش کر چکا ہے۔ خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں سات روز کے دوران اعتماد سازی کے اقدامات اور ممکنہ طور پر ایسے ممالک کی ضمانتوں کا تصور شامل تھا جو کسی معاہدے پر عمل درآمد میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس منصوبے پر تحفظات سامنے آئے ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے قطر کے پیش کردہ منصوبے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اپنے جوہری مؤقف میں تبدیلی نہیں کرے گا۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں کی جائے گی جسے وہ اپنے بنیادی مطالبات سے دستبرداری تصور کرے۔
امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اس کا جوہری پروگرام ابتدا ہی سے زیرِ بحث آئے۔ دوسری جانب ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔ ان معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا تھا کہ تہران ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے پیش کی گئی سات روزہ تجویز پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوا کہ ایران سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا ایران سے رابطہ طبی سامان سے متعلق تھا۔ تاہم امریکی میڈیا میں اس رابطے کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں کے تناظر میں بھی رپورٹ کیا گیا۔
قطری ثالثوں کی دوبارہ تہران آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں اور خطے میں جاری کشیدگی سمیت متعدد معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ تاحال کسی حتمی معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔


