اربوں ڈالر کی پابندیوں کو دھوکہ، چین نے ایران کو سامان پہنچانے کا خفیہ نیٹ ورک بنایا
رائٹرز کی ایکسکلوسیو رپورٹ کے مطابق ایران نے چین کے ساتھ اشیاء کے بدلے تیل کا خفیہ نظام بنا کر پابندیوں کو بائی پاس کیا۔ اس کے تحت ایران نے اربوں ڈالر کا فوجی سامان، ادویات اور گاڑیاں خریدیں۔

5 ایرانی اور دیگر ذرائع کے مطابق اس خفیہ تجارتی نظام کے تحت ایرانی تیل کے بدلے چین سے درآمدات کے لیے کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس نے حالیہ برسوں میں تہران کے لیے مالی لائف لائن کا کام کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اس نظام کے ذریعے چین سے ادویات، گاڑیاں، مواصلاتی آلات اور گزشتہ ایک سال میں کم از کم ایک بار کروڑوں ڈالر کا فضائی دفاعی سامان بھی خریدا۔
اس نظام سے چین کو بھی فائدہ ہوا۔ دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناطے چین نے رعایتی نرخ پر ایرانی تیل تک رسائی برقرار رکھی اور اپنی کمپنیوں کو بین الاقوامی جانچ سے بچایا۔
چین دنیا میں ایران کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ 2025 میں چین نے ایران کے برآمد شدہ تیل کا 80 فیصد سے زیادہ یعنی یومیہ اوسط 1.4 ملین بیرل خریدا۔
امریکہ نے معاملے پر کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ یورپی یونین سمیت شراکت داروں کے ساتھ مل کر "ایران کو اس کے جوہری عزائم کے لیے مادی ذرائع سے محروم" کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے رائٹرز کے سوال پر کہا کہ وہ "اس صورتحال سے واقف نہیں ہے"۔ ترجمان نے مزید کہا کہ "چین نے ہمیشہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے جن کی کوئی بین الاقوامی قانونی بنیاد نہیں"۔
ایران اور چین دونوں نے یورپی ممالک کی جانب سے پابندیوں کو دوبارہ بحال کرنے کے "سناپ بیک" میکانزم کو "قانونی اور طریقہ کار کے لحاظ سے ناقص" قرار دیا۔


