روس کی حمایت: وزیر خارجہ لاوروف کا ایران کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل کرنے کا مطالبہ
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت علاقائی استحکام کے لیے اہم قدم ہوگی۔ معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو دستخط کیے تھے۔

لاوروف نے یہ ریمارکس پیر کے روز ماسکو اسٹیٹ انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز MGIMO میں طلبہ اور فیکلٹی سے خطاب کے دوران دیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی ممکنہ شمولیت علاقائی سلامتی اور استحکام میں اضافے کا باعث بنے گی۔
وزیر خارجہ نے مکہ دفاعی معاہدے کا ذکر کیا جو 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دستخط ہوا تھا۔ اس سہ فریقی معاہدے میں اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کی شق شامل ہے۔ معاہدے کے تحت قائم ہونے والی "اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی" کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا۔
لاوروف نے یاد دلایا کہ روس دو دہائیوں سے خلیجی ممالک بشمول عرب ممالک اور ایران کے لیے علاقائی سیکیورٹی کانفرنس کی تجویز دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مصر اور الجزائر جیسے ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں تو یہ "بہت مؤثر اور مثبت قدم" ہوگا۔
مکہ دفاعی معاہدے کی اہم شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور ہوگا۔ اس وقت معاہدے کے ارکان پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی حکام نے بھی کہا ہے کہ وہ ایران یا دیگر ممالک کی اس معاہدے میں شرکت کی مخالفت نہیں کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
ویب ڈیسک


