روس نے یوکرین پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق کیف اور اوڈیسا سمیت کم از کم 28 مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ حملوں میں 200 سے زائد ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق ان تازہ حملوں میں میکییف میں ایک ریلوے ڈپو پر روسی میزائل حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ملک بھر میں رات بھر ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اوڈیسا میں روسی حملے میں رومانیہ کی سرحد کے قریب ایک سرحدی گزرگاہ اور برآمدی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب یوکرین کی فضائیہ کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ روس نے صرف اگست کے مہینے میں جیٹ انجن سے چلنے والے 2,800 سے زائد ڈرون استعمال کیے، جنہیں مار گرانا نسبتاً زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے ڈرونز کی تباہی کی شرح تقریباً 60 فیصد رہی، جو دیگر اقسام کے ڈرونز کے مقابلے میں کم ہے۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ اوڈیسا، خارکیف، زاپوریژیا اور خیرسون سمیت کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول روسی حملوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا اور یوکرین کو موسم سرما سے قبل فضائی دفاعی نظام کے لیے مزید بین الاقوامی امداد درکار ہے۔
ادھر ایسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس ساخنا نے کہا کہ رات کے وقت ڈرونز ملک کی سرحد کے قریب پرواز کرنے اور مختصر مدت کے لیے ایسٹونیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد نیٹو نے اپنے جنگی طیارے فوری طور پر فضا میں بھیج دیے۔
ساخنا نے مزید کہا، "نیٹو نے انتہائی تیزی اور منصوبہ بندی کے عین مطابق ردعمل دیا۔ اتحاد پوری طرح چوکس ہے اور اپنے رکن ممالک کی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے"۔