روس میں مزید 10 ہزار شمالی کوریائی فوجیوں کی تیاری، زیلنسکی کا دعویٰ
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس میں 8 ہزار سے زائد شمالی کوریائی فوجی موجود ہیں جبکہ مزید 10 ہزار فوجیوں کو روس منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

علامتی تصویر
زیلنسکی نے 28 ستمبر 2026 کو اپنے خطاب میں کہا کہ نئے شمالی کوریائی فوجیوں کو پہلے تربیت کے لیے منتخب کیا جا رہا ہے، جس کے بعد انہیں روس منتقل کیے جانے کی تیاری ہے۔ ان کے مطابق یہ معلومات یوکرینی دفاعی انٹیلی جنس کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔
یوکرینی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ روس شمالی کوریا کو فوجی ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق روسی تکنیکی معاونت سے شمالی کوریا میں شاہد طرز کے حملہ آور ڈرونز کی تیاری بھی شروع ہو چکی ہے۔
یہ پیش رفت روس اور شمالی کوریا کے درمیان پہلے سے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا پہلے بھی روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ میں فوجی اہلکار بھیج چکا ہے۔
تاہم مزید 10 ہزار فوجیوں کی روس منتقلی کا دعویٰ فی الحال بنیادی طور پر یوکرینی صدر اور یوکرینی انٹیلی جنس کے مؤقف پر مبنی ہے، اس لیے اسے حتمی طور پر مکمل تصدیق شدہ تعیناتی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
روس کی جانب سے ماضی میں شمالی کوریا کے ساتھ فوجی تعاون سے متعلق بعض مغربی اور یوکرینی دعووں کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ نئی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ماسکو اپنی فوجی افرادی قوت بڑھانے اور غیر ملکی اہلکاروں کے استعمال سے متعلق بھی خبروں کی زد میں ہے۔
روس، شمالی کوریا اور یوکرین سے متعلق اس پیش رفت نے یورپی جنگ اور مشرقی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات کے نئے پہلو کو نمایاں کیا ہے۔


