روس کا کیف پر بڑا حملہ، نیٹو کے جنگی طیارے بھی متحرک
روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور گردونواح میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے بعد پولینڈ اور رومانیہ نے اپنی فضائی حدود کی نگرانی کے لیے جنگی طیارے متحرک کر دیے۔

علامتی تصویر
یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کے دوران کیف اور دیگر علاقوں میں متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، رہائشی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ حملوں کے باعث یوکرین کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور دیگر ضروری خدمات متاثر ہوئیں۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے بڑی تعداد میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔ یوکرینی فضائی دفاع نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم روسی حملوں کا حجم فضائی دفاعی نظام پر مسلسل دباؤ ظاہر کرتا ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حملوں میں کیف کے ایک مواصلاتی مرکز، توانائی کی تنصیبات اور ازمیل بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ تنصیبات یوکرین کی فوجی ضروریات سے منسلک تھیں، تاہم روس کے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔
حملے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ پولینڈ اور رومانیہ نے اپنی فضائی حدود اور سرحدی علاقوں کے قریب پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر جنگی طیارے متحرک کیے۔ نیٹو کی فضائی نگرانی بھی اس پیش رفت کا اہم حصہ بن گئی۔
رومانیہ میں حکام نے یوکرین کی جانب سے آنے والے ایک فضائی ہدف کی نگرانی کے لیے اتحادی جنگی طیارے فضا میں بھیجے، جبکہ پولینڈ نے بھی روسی حملوں کے دوران اپنی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے جنگی طیارے متحرک کیے۔
یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ روسی حملوں کا اثر یوکرین کی حدود سے باہر نیٹو کے مشرقی رکن ممالک کی فضائی سلامتی تک محسوس کیا جا رہا ہے۔ اگر روسی حملوں کے دوران فضائی اہداف نیٹو کی سرحدوں کے قریب مزید بڑھتے ہیں تو خطے میں براہِ راست تصادم کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اتحادی ممالک سے فضائی دفاع کے لیے مزید مدد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یوکرین کو خاص طور پر روسی بیلسٹک میزائلوں اور تیز رفتار ڈرونز کے خلاف دفاعی نظام کی مسلسل ضرورت ہے۔
حالیہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرین موسم سرما سے قبل اپنی توانائی کی تنصیبات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوکرینی حکام کو خدشہ ہے کہ روس آنے والے سرد موسم میں توانائی کے نظام کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنا سکتا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم تازہ بڑے فضائی حملے ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں جانب فوجی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔


