سعودی عرب نے چین سے مدد مانگ لی، ایران پر دباؤ کی اپیل، رائٹرز کا انکشاف
رائٹرز کی ایکسکلوسو رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے چین سے ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے حوثیوں کو روکنے کی اپیل کی ہے، جس پر چین نے تہران کو نجی پیغام بھیجا ہے۔

علامتی تصویر
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ اس وقت ہوا جب گزشتہ ہفتے یمنی حوثیوں نے بحیرۂ احمر اور باب المندب کے قریب تیزی سے پیش قدمی کی جس سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات اور عالمی شپنگ لائن خطرے میں پڑ گئی۔
رائٹرز کے مطابق چین نے تہران کو نجی پیغام میں حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کرنے کا کہا، کیونکہ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی عالمی تیل اور شپنگ کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق چین کا پبلک بیان تو تحمل کا تھا لیکن پرائیویٹ پیغام اس سے کہیں زیادہ سخت تھا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے جواب دیا کہ خطے میں امن کا راستہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم ہونے سے نکلے گا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ جب تک ایران پر دباؤ ختم نہیں ہوتا، خطے میں کشیدگی کم نہیں ہو سکتی۔
رائٹرز کے مطابق 2025 میں چین نے ایران کی سمندری راستے سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ خریدا، اسی لیے چین واحد ملک ہے جو ایران پر اس معاملے میں موثر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ، چینی وزارت خارجہ اور ایرانی حکام نے رائٹرز کو اس خبر پر کوئی تبصرہ نہیں دیا۔


