سعودی عرب کا چین کو بڑا جھٹکا
سعودی عرب چین کی قیادت میں قائم mBridge ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارم سے الگ ہوگیا ہے۔ سعودی مرکزی بینک کے مطابق mBridge کا Proof of Concept مئی 2025 میں مکمل ہونے کے بعد اس کی شرکت ختم ہوئی۔

علامتی تصویر
mBridge ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جسے مرکزی بینکوں کے درمیان ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کو اپنی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے براہِ راست لین دین کی سہولت فراہم کرنا اور روایتی کراس بارڈر ادائیگیوں کے وقت اور اخراجات کو کم کرنا ہے۔
سعودی مرکزی بینک، جسے SAMA کہا جاتا ہے، نے جون 2024 میں اعلان کیا تھا کہ وہ mBridge کے Minimum Viable Product مرحلے میں بطور شریک شامل ہوگیا ہے۔ اس وقت SAMA نے کہا تھا کہ منصوبے کے ذریعے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے استعمال سے بینکوں کے درمیان سرحد پار ادائیگیوں اور تصفیے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق SAMA نے بتایا کہ اس نے 13 مئی 2025 کو mBridge کا Proof of Concept کامیابی سے مکمل کیا اور اس کے بعد وہ منصوبے کا شریک رکن نہیں رہا۔ سعودی مرکزی بینک نے اس فیصلے کو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق قرار دیا ہے۔
mBridge میں سعودی عرب کے علاوہ چین، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر مالیاتی ادارے بھی شامل رہے ہیں۔ منصوبے میں بلاک چین ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں کے ذریعے براہِ راست سرحد پار لین دین کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کو عالمی سطح پر اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے بعض بین الاقوامی ادائیگیوں میں امریکی ڈالر کو بطور intermediary currency استعمال کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ تاہم mBridge خود کوئی نئی عالمی کرنسی نہیں ہے اور سعودی عرب کی علیحدگی کو ڈالر سے دستبرداری کا اعلان قرار نہیں دیا گیا۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا میں بعض حکام نے ماضی میں mBridge پر تشویش کا اظہار کیا تھا، خصوصاً اس حوالے سے کہ چین اس پلیٹ فارم کے معیار اور بین الاقوامی مالیاتی نظام پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرسکتا ہے۔ تاہم سعودی عرب کے mBridge سے الگ ہونے کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دینے کی براہِ راست تصدیق نہیں ہوئی۔
SAMA کے مطابق سعودی عرب نے mBridge کے ذریعے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں اور سرحد پار ادائیگیوں کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے اس منصوبے میں حصہ لیا تھا۔ اس لیے سعودی عرب کا موجودہ فیصلہ زیادہ درست طور پر ایک مکمل کیے گئے تجرباتی مرحلے سے علیحدگی کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، نہ کہ ڈالر یا موجودہ عالمی مالیاتی نظام سے مکمل دستبرداری کے طور پر۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین کی جانب سے سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے متبادل مالیاتی انفراسٹرکچر کی کوششیں عالمی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ mBridge کے مستقبل اور عالمی ادائیگیوں میں اس کے کردار پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔


