امریکا اور ایران میں مذاکرات کی نئی پیش رفت
امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق قطری ثالث پیر یا منگل کو دونوں فریقوں سے الگ الگ بات چیت کرنے کی توقع ہے، جبکہ مذاکرات میں ایران کی ترمیم شدہ سات روزہ تجویز پر غور متوقع ہے۔

علامتی تصویر
مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطری ثالث امریکا میں موجود ہیں۔ قطری ثالث ایران اور امریکی فریق سے الگ الگ رابطے کریں گے، جس کا مقصد دونوں جانب کے مؤقف کو آگے بڑھانا اور سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متوقع بات چیت میں ایران کی سات روزہ تجویز کے ترمیم شدہ مسودے پر توجہ مرکوز ہونے کا امکان ہے۔ ایران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر یہ تجویز پیش کی تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے بجائے ثالثی کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں۔ اس مرحلے پر قطری ثالث دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات اور تجاویز پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ایران امریکی حکومت کے باضابطہ مؤقف کا منتظر ہے۔ موجودہ سفارتی کوششوں میں ترمیم شدہ سات روزہ تجویز پر بات چیت اس عمل کا اگلا اہم مرحلہ بن سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق مذاکرات سے متعلق عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی جانب سے ان الگ الگ رابطوں میں کون نمائندگی کرے گا۔
اس طرح تازہ پیش رفت کا بنیادی نکتہ امریکا اور ایران کی براہ راست ملاقات نہیں بلکہ قطر کے ذریعے دونوں فریقوں کے ساتھ الگ الگ سفارتی رابطے ہیں۔


