ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ، معاہدہ یا تباہی کی دھمکی، UN میں بڑا خطاب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے ساتھ امن معاہدے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے۔

علامتی تصویر
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے سامنے دو راستے ہیں: ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ جس کے ذریعے ملک دوبارہ تعمیر ہو سکے، یا پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف انتہائی تباہ کن کارروائی کی جائے۔ یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا براہِ راست انتباہ تھا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں توقع ہے کہ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک سے ایران کو معاشی طور پر مکمل طور پر تنہا کرنے میں امریکا کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اپنے 37 منٹ کے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں امریکی پالیسی کا بھی دفاع کیا۔ دوسری جانب ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور ایران و امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی زیرِ بحث ہیں۔
ماخذ: رائٹرز


