World
ٹرمپ کے میڈیا بین پر امریکی عدالت کا حکم، 3 اداروں کی وائٹ ہاؤس رسائی بحال
امریکی وفاقی جج ٹموتھی کیلی نے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس رسائی بحال کرنے کا حکم دے دیا اور پابندی کے نفاذ کو 14 دن کے لیے روک دیا۔
By Site Administrator·September 24, 2026·1 min read·15 views

علامتی تصویر
امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس رسائی پر عائد پابندی کے خلاف اہم حکم جاری کردیا ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے 24 ستمبر 2026 کو انتظامیہ کو تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس پریس پاسز فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے پابندی کے نفاذ کو 14 دن کے لیے بھی روک دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ نے 18 ستمبر کو CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس رسائی ختم کردی تھی۔ تینوں میڈیا اداروں نے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے آئینی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی حکومت کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وائٹ ہاؤس تک میڈیا کی رسائی ایک مراعاتی معاملہ ہے، جبکہ قومی سلامتی سے متعلق خدشات بھی پیش کیے گئے۔ تاہم جج ٹموتھی کیلی نے اپنے حکم میں کہا کہ موجودہ ریکارڈ ان دعوؤں کو کافی طور پر ثابت نہیں کرتا۔
عدالت کے مطابق پابندی کے آئینی طور پر خلافِ قانون ہونے کا امکان موجود ہے، جبکہ مقدمے کی مزید کارروائی جاری رہے گی۔
تازہ پیش رفت میں رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود 24 ستمبر کو ایک پولیٹیکو رپورٹر کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکا گیا، جس کے بعد عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے 24 ستمبر 2026 کو انتظامیہ کو تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کے وائٹ ہاؤس پریس پاسز فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے پابندی کے نفاذ کو 14 دن کے لیے بھی روک دیا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ نے 18 ستمبر کو CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کی وائٹ ہاؤس رسائی ختم کردی تھی۔ تینوں میڈیا اداروں نے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے آئینی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی حکومت کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وائٹ ہاؤس تک میڈیا کی رسائی ایک مراعاتی معاملہ ہے، جبکہ قومی سلامتی سے متعلق خدشات بھی پیش کیے گئے۔ تاہم جج ٹموتھی کیلی نے اپنے حکم میں کہا کہ موجودہ ریکارڈ ان دعوؤں کو کافی طور پر ثابت نہیں کرتا۔
عدالت کے مطابق پابندی کے آئینی طور پر خلافِ قانون ہونے کا امکان موجود ہے، جبکہ مقدمے کی مزید کارروائی جاری رہے گی۔
تازہ پیش رفت میں رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود 24 ستمبر کو ایک پولیٹیکو رپورٹر کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکا گیا، جس کے بعد عدالتی حکم پر عمل درآمد سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔
یہ عدالتی حکم فی الحال 14 روز کے لیے نافذ ہے، جبکہ کیس میں مزید قانونی کارروائی کے دوران وائٹ ہاؤس میڈیا رسائی کے معاملے پر مزید فیصلے متوقع ہیں۔
زرائع: رائٹرز
24 ستمبر 2026#امریکا، ڈونلڈ ٹرمپ، وائٹ ہاؤس، امریکی عدالت، میڈیا، صحافت، CNN، MS NOW، Politico، عالمی خبریں


