ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے والا جہاز امریکی حملے کا نشانہ، خلیجِ عمان میں کارروائی
امریکی فوج کے مطابق خلیجِ عمان میں ایران کی بندرگاہ سے نکلنے والے پاناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز کو وارننگز نظرانداز کرنے اور بحری ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش پر نشانہ بنایا گیا۔ امریکی بیان کے مطابق جہاز کا نظامِ حرکت ناکارہ ہوگیا، جبکہ عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

علامتی تصویر
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 10 اکتوبر کو پیش آیا۔ امریکی حکام نے بتایا کہ جہاز ایران کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد علاقائی سمندری حدود سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق امریکی لڑاکا طیارے نے پاناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز کے پچھلے حصے کو درست نشانے والے ہتھیار سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں جہاز کا نظامِ حرکت مکمل طور پر ناکارہ ہوگیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی میں جہاز کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم رائٹرز کے مطابق رپورٹ شائع ہونے تک جہاز کے آپریٹر سے فوری طور پر مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا تھا، اس لیے واقعے کی تفصیلات بنیادی طور پر امریکی فوج کے بیان پر مبنی ہیں۔
امریکی فوج نے جہاز کی شناخت ایم وی اوشن مولیکا کے نام سے کی ہے، جسے اریکا سن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پاناما کے پرچم کے تحت سفر کرنے والا تجارتی جہاز ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ جہاز ایران کی بندرگاہ سے روانہ ہونے کے بعد سمندر میں آگے بڑھ رہا تھا۔ امریکی مؤقف کے مطابق اس نے ناکہ بندی سے متعلق بار بار دی گئی ہدایات اور وارننگز کو نظرانداز کیا، جس کے بعد اسے روکنے کے لیے کارروائی کی گئی۔
امریکا نے ایران کی بندرگاہوں سے آنے اور جانے والے جہازوں پر بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔ امریکی حکام نے سمندری راستوں پر موجود جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ناکہ بندی سے متعلق انتباہات پر عمل کریں اور ضرورت پڑنے پر امریکی بحری افواج سے رابطہ برقرار رکھیں۔
اس کارروائی سے خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف بحری آمدورفت کو درپیش خطرات ایک بار پھر نمایاں ہوئے ہیں۔ یہ خطہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی کھپت کے برابر تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا تھا۔
رائٹرز کے مطابق حالیہ حملوں اور سمندری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد دو ماہ سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں مزید رکاوٹیں تیل کی عالمی فراہمی، ترسیلی اخراجات اور قیمتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔
تاہم اس ایک کارروائی کی بنیاد پر عالمی تیل کی قیمتوں میں کسی مخصوص اضافے یا فوری قلت کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ اس کا انحصار آئندہ بحری صورتحال، جہازوں کی آمدورفت اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی کی نوعیت پر ہوگا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز کے قریب کام کرنے والے بحری جہازوں کو ناکہ بندی کی وارننگز پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس واقعے کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ آیا مزید تجارتی جہازوں کو روکا جائے گا اور کیا اس کارروائی پر ایران یا جہاز کے آپریٹر کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آتا ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ معلومات کے مطابق امریکی لڑاکا طیارے کی کارروائی سے جہاز کا نظامِ حرکت ناکارہ ہوا، جبکہ امریکی بیان میں عملے کے محفوظ رہنے کی اطلاع دی گئی۔ واقعے سے متعلق مزید آزادانہ تصدیق یا متعلقہ فریقوں کے ردعمل سامنے آنے پر صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔
ذرائع: رائٹرز اور امریکی سینٹرل کمانڈ


