امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر نئی پابندیوں کے قانون پر دستخط کردیئے، جس کے تحت روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 ستمبر 2026 کو روس اور ایران سے متعلق نئی پابندیوں کے قانون پر دستخط کردیئے، جس کے بعد یہ قانون نافذ ہوگیا ہے۔ قانون روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں، روسی حکام، مالیاتی اداروں اور روسی تیل کی ترسیل میں استعمال ہونے والے ’شیڈو فلیٹ‘ کو نشانہ بناتا ہے۔
نئے قانون کے تحت امریکی صدر کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک کی امریکی درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ قانون میں روسی توانائی کے پانچ بڑے خریداروں کو ممکنہ طور پر اس اقدام کے دائرے میں لانے کی گنجائش موجود ہے۔
چین اور بھارت اس قانون کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک روسی توانائی کے بڑے خریدار ہیں۔ تاہم 100 فیصد ٹیرف کا مطلب یہ نہیں کہ چین یا بھارت پر اسی وقت 100 فیصد نئی ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے؛ قانون اس حوالے سے امریکی صدر کو اختیار فراہم کرتا ہے اور عملی نفاذ کے لیے مزید انتظامی اقدامات درکار ہوں گے۔
قانون میں روس کی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف بھی اقدامات شامل ہیں۔ یہ وہ ٹینکرز ہیں جنہیں مغربی پابندیوں سے بچتے ہوئے روسی تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں سے وابستہ مختلف اداروں اور شخصیات کو بھی نئی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ قانون ’Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026‘ کے نام سے نافذ ہوا ہے۔ امریکی سینیٹ نے اسے اگست میں منظور کیا تھا جبکہ ایوان نمائندگان نے 16 ستمبر کو 262 کے مقابلے میں 159 ووٹوں سے منظوری دی، جس کے بعد اسے صدر کے دستخط کے لیے بھیجا گیا۔
نئے قانون کے باعث روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک کے لیے امریکی منڈی میں تجارت کے حوالے سے اضافی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔ بھارت نے پہلے ہی روسی تیل کی خریداری پر ممکنہ امریکی ٹیرف کے اثرات کے حوالے سے واشنگٹن کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
چین اور بھارت سمیت روسی توانائی کے بڑے خریداروں پر ممکنہ ٹیرف کا نفاذ عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم اس کے حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکی انتظامیہ قانون میں دیے گئے اختیارات کو کس طرح استعمال کرتی ہے۔
ٹرمپ کے دستخط کے بعد قانون اب نافذ العمل ہے، جبکہ ممکنہ 100 فیصد ٹیرف سمیت مختلف اقدامات کے عملی نفاذ اور مخصوص ممالک کے انتخاب سے متعلق مزید فیصلے امریکی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنا باقی ہیں۔