ترکی سعودی عرب کی مدد کو تیار
ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملوں کے باعث سعودی عرب کو فوجی ضروریات پیش آنے کی صورت میں ترکی مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

علامتی تصویر
فیدان نے 19 ستمبر 2026 کو ترک میڈیا سے گفتگو میں سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی حالیہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی ممکنہ فوجی ضروریات پوری کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گزشتہ ماہ مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع اور باہمی تعاون کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا ہے۔
فیدان کے مطابق سعودی عرب کی بعض تکنیکی فوجی ضروریات پوری کرنے میں ترکی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ تاہم ان کے بیان میں سعودی عرب میں ترک فوج کی تعیناتی یا کسی مخصوص فوجی آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بیان سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی شہروں اور اہم تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ سعودی قیادت میں اتحاد نے متعدد حملوں کو ناکام بنانے کا کہا ہے۔
فیدان نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا رہے گا۔
ترکی کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے ادارہ جاتی اقدامات بھی جاری ہیں۔ ترک حکام کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید منظم کرنے اور اس کے لیے مستقل ڈھانچہ قائم کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
ترکی کی جانب سے سعودی عرب کی مدد کی پیشکش کو موجودہ علاقائی صورتحال اور تین ملکی دفاعی تعاون کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم کسی نئی فوجی تعیناتی یا براہ راست جنگی کارروائی کا اعلان اس بیان میں نہیں کیا گیا۔


