یوکرین کے روسی تیل تنصیبات پر نئے حملے، تین آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے عارضی وقفے کے بعد روس کی تین آئل ریفائنریز اور ایک گیس و کیمیکل کمپلیکس کو دوبارہ نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق حملے رات کے دوران کیے گئے۔

علامتی تصویر
روسی نائب وزیراعظم کے مطابق رات کے دوران تین آئل ریفائنریز پر حملے کیے گئے، جبکہ ایک گیس اور کیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ نوواک نے روسی سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ یوکرین کی جانب سے روسی توانائی کے شعبے سے متعلق تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق روس کے مختلف علاقوں میں یوکرینی ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں میں تیل صاف کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم تمام مقامات پر ہونے والے نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی جمعے کو روس کے سمارا علاقے میں واقع نووکوئیبیشیفسک آئل ریفائنری پر یوکرینی حملے کی اطلاع دی۔ یوکرینی دفاعی ذرائع نے متعدد حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس سے قبل امریکی دباؤ کے بعد یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز پر حملوں میں عارضی وقفے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے حوالے سے رائٹرز نے بھی اس مبینہ وقفے کا ذکر کیا تھا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یوکرین کے روسی آئل ریفائنریز پر حملوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہیں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے جوڑا تھا اور کیف پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ تاہم عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دیگر عوامل بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔


