ایران سے متعلق امریکی انٹیلی جنس کا ہائی الرٹ، مشرق وسطیٰ کے چار سفارت خانوں میں عملہ کم
امریکی انٹیلی جنس کے ایک انتباہ میں ایران سے متعلق خطرات اور امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے مبینہ منصوبوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس دوران اردن، لبنان، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانوں کے عملے میں کمی کی گئی ہے۔

علامتی تصویر
رپورٹس کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ جے کلیٹن نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایک یادداشت بھیجی، جس میں امریکی شہریوں اور اہلکاروں کے خلاف مبینہ منصوبوں سے متعلق خطرات کی نشاندہی کی گئی۔ یادداشت میں بعض منصوبوں کے پیش رفت کے اعلیٰ مراحل تک پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم، کسی مخصوص حملے کی تاریخ یا ہدف کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور ان دعووں کی آزادانہ تصدیق بھی دستیاب نہیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکا نے اردن، لبنان، قطر اور متحدہ عرب امارات میں اپنے سفارت خانوں کے عملے میں کمی کے اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ متعلقہ سفارت خانے بند نہیں کیے گئے، تاہم بعض مقامات پر محدود آپریشنز کے تحت کام جاری ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور سفارتی کوششوں کے لیے اہم چیلنج بنی ہوئی ہے۔ امریکی سفارت خانوں میں سکیورٹی اقدامات میں اضافے سے خطے کی صورتحال پر عالمی توجہ مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ حکام کے بیانات، سفارتی رابطوں اور خطرات سے متعلق مزید قابلِ تصدیق معلومات پر ہوگا۔
مانیٹرنگ ڈیسک۔


