ٹرمپ انتظامیہ کی ایران پر نئی پابندیاں، پاکستان کا قابلِ اطلاق پابندیوں پر عمل درآمد کا اعلان
امریکی محکمۂ خزانہ نے ایران کے آٹو اور ریلوے شعبوں سمیت اسٹیل اور مینوفیکچرنگ سے منسلک متعدد اداروں اور نیٹ ورکس پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق قابلِ اطلاق پابندیوں کی پاسداری کا مؤقف اختیار کیا ہے۔

علامتی تصویر
امریکی محکمۂ خزانہ نے یکم اکتوبر کو جاری بیان میں ان اقدامات کو ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا حصہ قرار دیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایرانی حکومت کی آمدنی کے ذرائع اور ان نیٹ ورکس کو محدود کرنا ہے جنہیں واشنگٹن ایران کی فوجی سرگرمیوں اور پاسدارانِ انقلاب کی مالی معاونت سے جوڑتا ہے۔
نئی پابندیوں کی زد میں ایران کی بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں ایران خودرو اور سائپا کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی سرکاری ریلوے کمپنی، راجا مسافر ٹرینز کمپنی اور ریلوے ٹرانسپورٹیشن کمپنی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی کارروائی صرف ایرانی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایران کی آٹو صنعت کو سامان فراہم کرنے والی بعض غیر ملکی کمپنیوں اور اسٹیل کی صنعت سے منسلک تجارتی نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ کے بیان میں مختلف ممالک سے منسلک بعض اداروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے ایران سے متعلق امریکی پابندیوں کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق تمام قابلِ اطلاق پابندیوں کے نظام کی پاسداری کرے گا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے یکم اکتوبر کی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی اور بین الاقوامی قانون پر مبنی نظام کے عزم پر قائم ہے اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
پاکستان کے بیان میں قابلِ اطلاق پابندیوں کی پاسداری کو بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، اس لیے اسے امریکہ کی تمام یکطرفہ پابندیوں کی غیرمشروط توثیق قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ نئی پابندیوں کے باعث ایران کے صنعتی شعبوں اور ان سے منسلک غیر ملکی تجارتی اداروں پر ممکنہ معاشی اثرات مرتب ہونے کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔


