ٹرمپ انتظامیہ کا چین پر نیا تجارتی دباؤ، طیاروں کے پرزوں کی برآمدی منظوری سست
رائٹرز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین جانے والے امریکی ساختہ طیاروں کے پرزوں کی برآمدی منظوریوں کا عمل سست کر دیا ہے۔ واشنگٹن اس اقدام کو بیجنگ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔

علامتی تصویر
خبر رساں ادارے رائٹرز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اس اقدام کو چین کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات میں دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے طیاروں کے اہم پرزوں کی برآمد سے متعلق منظوریوں میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایسی ممکنہ پابندیوں کے مسودے پر بھی غور کر رہی ہے جن کے تحت لینڈنگ گیئر سمیت دیگر اہم طیارہ پرزوں کی چین کو برآمد محدود کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے گا۔ تاہم ان مجوزہ اقدامات کو حتمی طور پر نافذ کرنے کے بارے میں کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
چین کی ہوا بازی کی صنعت امریکی ساختہ طیاروں کے بعض پرزوں اور تکنیکی سامان پر انحصار کرتی ہے۔ ایسے میں برآمدی منظوریوں میں تاخیر سے طیاروں کی مرمت، دیکھ بھال اور متعلقہ صنعتی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہونے کا امکان زیرِ بحث آ سکتا ہے۔
امریکا اور چین کے درمیان تجارت، ٹیکنالوجی اور صنعتی رسد کے شعبوں میں پہلے ہی اختلافات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات میں مختلف مصنوعات اور اہم صنعتی شعبوں تک رسائی بھی اہم موضوعات میں شامل رہی ہے۔
تازہ اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن تجارتی مذاکرات میں اہم صنعتی سامان کی برآمد کو دباؤ کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم اس پالیسی کے حتمی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا مجوزہ پابندیاں نافذ ہوتی ہیں اور چین کی جانب سے اس پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔
یہ پیش رفت عالمی ہوا بازی کی صنعت اور امریکا چین تجارتی تعلقات کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔


