یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا اعلان، جنگ میں شدت
یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومتی فوج نے صنعاء، صعدہ اور تعز میں حوثی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

علامتی تصویر
رائٹرز کے مطابق رشاد العلیمی نے اعلان کیا کہ مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور دیگر فوجی دستوں کو منظور شدہ منصوبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک کے تمام علاقوں میں ریاستی اختیار بحال نہیں ہو جاتا۔
یمنی حکومتی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے بتایا کہ فوج نے حوثیوں کے زیرِ اثر دارالحکومت صنعاء، شمال مغربی صوبے صعدہ اور جنوب مغربی علاقے تعز میں ان کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
الجزیرہ اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے تعز اور لحج کے محاذوں پر بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ حکومتی فوج نے حوثی جنگجوؤں اور فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کے دعوے کیے ہیں، تاہم ہلاکتوں اور تباہ شدہ فوجی سازوسامان کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب آرامکو کی ایک تیل تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔ حوثیوں کے مطابق حملے کے نتیجے میں تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافی نے ریاض کے جنوب میں واقع آرامکو کی تنصیب کے قریب آگ اور دھواں دیکھا، جبکہ فائر بریگیڈ اور امدادی گاڑیاں بھی وہاں موجود تھیں۔ تاہم سعودی حکام اور آرامکو نے آگ لگنے کی وجہ یا حوثیوں کے حملے کے دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے حوثیوں کے حملے سے متعلق دعوے کو گمراہ کن قرار دیا اور کہا کہ گروپ خیالی کامیابیوں کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس لیے آرامکو پر حملے کی ذمہ داری اور اس کے اصل حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔
یمن میں حالیہ لڑائی سعودی عرب اور ایران کے درمیان وسیع علاقائی کشیدگی کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی گروپ کو ایران کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔
رائٹرز نے 2 اکتوبر کی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، جس کا ایک اہم مقصد بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب بحری راستوں کی سلامتی بحال کرنا ہے۔ تاہم 4 اکتوبر کو رشاد العلیمی کا اعلان یمنی حکومت کی جانب سے فوجی کارروائی شروع کرنے کے حوالے سے ایک الگ اور اہم پیش رفت ہے۔
یمن کی جغرافیائی حیثیت اس تنازعے کو عالمی اہمیت دیتی ہے۔ باب المندب آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اس علاقے میں لڑائی بڑھنے سے تجارتی جہازوں، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔
یمن میں نئی فوجی کارروائی کے بعد یہ خدشات بھی بڑھ گئے ہیں کہ لڑائی مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے اور پہلے سے سنگین انسانی بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ یمنی حکومتی افواج کا اعلان کردہ آپریشن کس حد تک آگے بڑھتا ہے، حوثی اس کا کیا جواب دیتے ہیں اور سعودی عرب سمیت علاقائی قوتیں اس کشیدگی میں کیا کردار ادا کرتی ہیں۔


