Business
ٹک ٹاک کی کمپنی 29.6 ارب ڈالر کی قرض دار ہوگئی
چین کی بائٹ ڈانس نے اے آئی کی ترقی کے لیے 29.6 ارب ڈالر کا قرضہ لیا ہے۔ یہ رقم ٹک ٹاک اور ڈوئن پر نئے اے آئی فیچرز کے لیے استعمال ہوگی۔
By Site Administrator·September 5, 2026·1 min read·20 views

بیجنگ: چین کی مشہور سوشل میڈیا کمپنی بائٹ ڈانس مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی ترقی کے لیے 29.6 ارب ڈالر کی قرض دار ہو گئی ہے۔ پاکستانی روپے میں یہ رقم تقریباً 83 کھرب روپے بنتی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ قرضہ دنیا کی 30 بڑی بینکوں نے دیا ہے۔ اس ڈیل کو امریکی بینک سٹی گروپ اور جے پی مورگن نے کوآرڈینیٹ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس رقم میں سے 60 فیصد سے زیادہ حصہ چینی بینکوں نے فراہم کیا ہے۔
یہ ایشیا کا رواں سال 2026 کا دوسرا سب سے بڑا قرضہ ہے۔ اس سے پہلے صرف سافٹ بینک نے اوپن اے آئی میں سرمایہ کاری کے لیے 40 ارب ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔
بائٹ ڈانس نے بینکوں کو بتایا کہ یہ رقم عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی یہ ساری رقم اے آئی ٹیکنالوجی پر خرچ کرے گی۔ اس سے ٹک ٹاک اور چین کی مقامی ایپ ڈوئن یعنی چین کی ٹک ٹاک پر نئے اے آئی فیچرز متعارف کرائے جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکوں کا اتنی بڑی رقم دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب اے آئی سب سے اہم ترجیح بن چکا ہے۔ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد اے آئی کے مستقبل پر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
ٹک ٹاک دنیا کی مقبول ترین شارٹ ویڈیو ایپ ہے اور اس پر پہلے ہی اے آئی کے ذریعے ویڈیو ایڈیٹنگ اور ریکمنڈیشن سسٹم کام کر رہا ہے۔ اب اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد توقع ہے کہ صارفین کو جلد ہی مزید جدید اے آئی ٹولز دیکھنے کو ملیں گے۔
ذرائع:رائٹرز
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ قرضہ دنیا کی 30 بڑی بینکوں نے دیا ہے۔ اس ڈیل کو امریکی بینک سٹی گروپ اور جے پی مورگن نے کوآرڈینیٹ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس رقم میں سے 60 فیصد سے زیادہ حصہ چینی بینکوں نے فراہم کیا ہے۔
یہ ایشیا کا رواں سال 2026 کا دوسرا سب سے بڑا قرضہ ہے۔ اس سے پہلے صرف سافٹ بینک نے اوپن اے آئی میں سرمایہ کاری کے لیے 40 ارب ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔
بائٹ ڈانس نے بینکوں کو بتایا کہ یہ رقم عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی یہ ساری رقم اے آئی ٹیکنالوجی پر خرچ کرے گی۔ اس سے ٹک ٹاک اور چین کی مقامی ایپ ڈوئن یعنی چین کی ٹک ٹاک پر نئے اے آئی فیچرز متعارف کرائے جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکوں کا اتنی بڑی رقم دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اب اے آئی سب سے اہم ترجیح بن چکا ہے۔ کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد اے آئی کے مستقبل پر بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
ٹک ٹاک دنیا کی مقبول ترین شارٹ ویڈیو ایپ ہے اور اس پر پہلے ہی اے آئی کے ذریعے ویڈیو ایڈیٹنگ اور ریکمنڈیشن سسٹم کام کر رہا ہے۔ اب اتنی بڑی سرمایہ کاری کے بعد توقع ہے کہ صارفین کو جلد ہی مزید جدید اے آئی ٹولز دیکھنے کو ملیں گے۔
ذرائع:رائٹرز


