Business
انسٹاگرام CEO کا بڑا انتباہ: الگورتھم ہٹانے سے فیڈ اشتہاروں سے بھر جائے گی
انسٹاگرام کے CEO ایڈم موسری نے خبردار کیا ہے کہ اگر الگورتھم بند ہوا تو عام کریٹرز کی ریچ ختم ہو جائے گی اور فیڈ صرف بڑے برانڈز کے اشتہاروں سے بھر جائے گی۔
By Site Administrator·September 12, 2026·2 min read·28 views

علامتی تصویر
انسٹاگرام کے چیف ایگزیکٹو ایڈم موسری نے آسٹریلیا کے نئے مجوزہ قانون "مائے فیڈ مائے وے" پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صارفین کو الگورتھم بند کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے یہ پلان 16 سال سے زائد عمر کے صارفین کے لیے پیش کیا ہے۔ اس پلان کے تحت صارفین اپنے فیڈ سے الگورتھم کو مکمل طور پر ہٹا کر صرف ان اکاؤنٹس کی پوسٹس دیکھ سکیں گے جنہیں وہ فالو کرتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ الگورتھم کی وجہ سے نوجوانوں اور بچوں کو نقصان دہ مواد بہت جلدی مل جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق الگورتھم 23 منٹ کے اندر ہی بچوں کو غیر مناسب مواد دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ اسی لیے حکومت اسے آن لائن سیفٹی کے لیے ضروری قدم قرار دے رہی ہے۔
دوسری جانب انسٹاگرام کے سی ای او ایڈم موسری نے اس تجویز کو پلیٹ فارم کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے 3 بڑے خدشات گنوائے۔
پہلا یہ کہ بغیر الگورتھم کے صرف وہی مواد فیڈ میں اوپر آئے گا جو سب سے زیادہ پوسٹ کیا جائے گا۔ اس کا فائدہ صرف بڑے برانڈز اور مشہور شخصیات کو ہوگا جبکہ چھوٹے اور عام کریٹرز مکمل طور پر نظر انداز ہو جائیں گے۔
دوسرا خدشہ یہ ہے کہ الگورتھم کے نہ ہونے کی صورت میں فیڈ میں آرگینک مواد کی کمی ہو جائے گی اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے پلیٹ فارم کو زیادہ اشتہارات دکھانا پڑیں گے۔
تیسرا موسری کا ماننا ہے کہ الگورتھم ہی صارفین کو ان کی دلچسپی کا مواد دکھاتا ہے۔ اس کے بغیر یوزر جلد بور ہو جائیں گے اور انسٹاگرام کا استعمال کم کر دیں گے۔
یہ بحث ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر بچوں کی حفاظت اور مواد کے کنٹرول کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا حکومت سیفٹی کو ترجیح دیتی ہے یا پلیٹ فارمز کے خدشات کو۔
مانیٹرنگ ڈیسک
آسٹریلیا کی حکومت نے یہ پلان 16 سال سے زائد عمر کے صارفین کے لیے پیش کیا ہے۔ اس پلان کے تحت صارفین اپنے فیڈ سے الگورتھم کو مکمل طور پر ہٹا کر صرف ان اکاؤنٹس کی پوسٹس دیکھ سکیں گے جنہیں وہ فالو کرتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ الگورتھم کی وجہ سے نوجوانوں اور بچوں کو نقصان دہ مواد بہت جلدی مل جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق الگورتھم 23 منٹ کے اندر ہی بچوں کو غیر مناسب مواد دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ اسی لیے حکومت اسے آن لائن سیفٹی کے لیے ضروری قدم قرار دے رہی ہے۔
دوسری جانب انسٹاگرام کے سی ای او ایڈم موسری نے اس تجویز کو پلیٹ فارم کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے 3 بڑے خدشات گنوائے۔
پہلا یہ کہ بغیر الگورتھم کے صرف وہی مواد فیڈ میں اوپر آئے گا جو سب سے زیادہ پوسٹ کیا جائے گا۔ اس کا فائدہ صرف بڑے برانڈز اور مشہور شخصیات کو ہوگا جبکہ چھوٹے اور عام کریٹرز مکمل طور پر نظر انداز ہو جائیں گے۔
دوسرا خدشہ یہ ہے کہ الگورتھم کے نہ ہونے کی صورت میں فیڈ میں آرگینک مواد کی کمی ہو جائے گی اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے پلیٹ فارم کو زیادہ اشتہارات دکھانا پڑیں گے۔
تیسرا موسری کا ماننا ہے کہ الگورتھم ہی صارفین کو ان کی دلچسپی کا مواد دکھاتا ہے۔ اس کے بغیر یوزر جلد بور ہو جائیں گے اور انسٹاگرام کا استعمال کم کر دیں گے۔
یہ بحث ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر بچوں کی حفاظت اور مواد کے کنٹرول کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا حکومت سیفٹی کو ترجیح دیتی ہے یا پلیٹ فارمز کے خدشات کو۔
مانیٹرنگ ڈیسک
#Instagram#Adam Mosseri#Algorithm#Social Media#Australia#Tech News#Creators


