Business
پاکستان نے 11 ماہ میں آئی پی پیز کو 12 ارب ڈالر ادا کر دیے، تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش
وزارت توانائی نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ 11 ماہ میں 29 کھرب 35 ارب روپے ادا کیے گئے جس میں 15 کھرب سے زائد صرف کیپسٹی چارجز ہیں۔
By Site Administrator·September 15, 2026·1 min read·33 views

علامتی تصویر
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کو 29 کھرب 35 ارب روپے کی خطیر رقم ادا کر دی ہے جو تقریباً 12 ارب ڈالر بنتی ہے۔
وزارت توانائی نے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تفصیلات میں بتایا کہ یہ ادائیگیاں نیپرا کے طے شدہ ٹیرف کے مطابق کی گئی ہیں۔ اس میں 11 کھرب 68 ارب روپے انرجی پیمنٹس جبکہ 15 کھرب 65 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم پاکستان کے سالانہ دفاعی بجٹ اور آئی ایم ایف سے حاصل کردہ تین سالہ قرض پروگرام کے حجم سے بھی زیادہ ہے۔
وزارت توانائی نے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تفصیلات میں بتایا کہ یہ ادائیگیاں نیپرا کے طے شدہ ٹیرف کے مطابق کی گئی ہیں۔ اس میں 11 کھرب 68 ارب روپے انرجی پیمنٹس جبکہ 15 کھرب 65 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم پاکستان کے سالانہ دفاعی بجٹ اور آئی ایم ایف سے حاصل کردہ تین سالہ قرض پروگرام کے حجم سے بھی زیادہ ہے۔
سب سے زیادہ بجلی ہائیڈل سے حاصل کی گئی، 34,234 گیگا واٹ آور پر 375 ارب ادا ہوئے جبکہ درآمدی کوئلے سے صرف 12,048 گیگا واٹ آور بجلی پر 637 ارب روپے ادا کیے گئے جو سب سے مہنگی بجلی ثابت ہوئی۔
ویب ڈیسک۔
#IPP#بجلی کا بحران#وزارت توانائی#نیپرا#Circular Debt


