Business
13 سال بعد حیدرآباد ایئرپورٹ کی بحالی کی تیاری
حیدرآباد ایئرپورٹ کو 13 سال بعد دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ زیرِ بحث ہے۔ مجوزہ منصوبے میں رن وے کی لمبائی 7 ہزار فٹ سے بڑھا کر 11 ہزار 500 فٹ کرنے اور بڑے مسافر طیاروں کی لینڈنگ کے قابل بنانے کی تجویز شامل ہے۔
By Site Administrator·October 4, 2026·1 min read·15 views

علامتی تصویر
حیدرآباد: سندھ کے اہم شہر حیدرآباد کے ایئرپورٹ کو تقریباً 13 سال بعد دوبارہ فعال کرنے کے منصوبے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے تحت ایئرپورٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور بڑے مسافر طیاروں کی آمد و رفت کے قابل بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق حیدرآباد ایئرپورٹ کا رن وے اس وقت تقریباً 7 ہزار فٹ طویل ہے، جسے بڑھا کر 11 ہزار 500 فٹ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ اس توسیع سے بوئنگ 777 جیسے بڑے طیاروں کی لینڈنگ کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
منصوبے میں مسافروں کے لیے دستیاب سہولتوں کو بہتر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد ایئرپورٹ کو کراچی، سکھر اور نواب شاہ کے لیے متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، تاکہ ہنگامی حالات یا خراب موسم کے دوران فضائی آپریشن متاثر ہونے کی صورت میں متبادل سہولت میسر ہو۔
حیدرآباد ایئرپورٹ نے 2013 میں اپنی آخری تجارتی پرواز سنبھالی تھی۔ اس کے بعد سے یہاں باقاعدہ تجارتی پروازیں بند ہیں۔ اگر مجوزہ منصوبہ منظور ہو کر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے حیدرآباد اور گردونواح کے شہریوں کو فضائی سفر کی سہولت ملنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم منصوبے کی حتمی منظوری، تعمیراتی کام کے آغاز، مالی وسائل اور پروازوں کی بحالی سے متعلق سرکاری تفصیلات سامنے آنا ابھی ضروری ہے۔ اس لیے فی الحال اسے ایک مجوزہ منصوبہ ہی سمجھا جانا چاہیے۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق حیدرآباد ایئرپورٹ کا رن وے اس وقت تقریباً 7 ہزار فٹ طویل ہے، جسے بڑھا کر 11 ہزار 500 فٹ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ اس توسیع سے بوئنگ 777 جیسے بڑے طیاروں کی لینڈنگ کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
منصوبے میں مسافروں کے لیے دستیاب سہولتوں کو بہتر بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد ایئرپورٹ کو کراچی، سکھر اور نواب شاہ کے لیے متبادل ایئرپورٹ کے طور پر استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، تاکہ ہنگامی حالات یا خراب موسم کے دوران فضائی آپریشن متاثر ہونے کی صورت میں متبادل سہولت میسر ہو۔
حیدرآباد ایئرپورٹ نے 2013 میں اپنی آخری تجارتی پرواز سنبھالی تھی۔ اس کے بعد سے یہاں باقاعدہ تجارتی پروازیں بند ہیں۔ اگر مجوزہ منصوبہ منظور ہو کر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس سے حیدرآباد اور گردونواح کے شہریوں کو فضائی سفر کی سہولت ملنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم منصوبے کی حتمی منظوری، تعمیراتی کام کے آغاز، مالی وسائل اور پروازوں کی بحالی سے متعلق سرکاری تفصیلات سامنے آنا ابھی ضروری ہے۔ اس لیے فی الحال اسے ایک مجوزہ منصوبہ ہی سمجھا جانا چاہیے۔
#حیدرآباد ایئرپورٹ، ایئرپورٹ کی بحالی، سندھ، ہوا بازی، کراچی ایئرپورٹ، پاکستان


