پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں کا معاملہ، 3,296 روپے کا سلنڈر 5,000 روپے میں فروخت ہونے کی اطلاعات
ڈان کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 11.8 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی مقررہ قیمت 3,296 روپے ہے، جبکہ مارکیٹ میں اس کی قیمت تقریباً 5,000 روپے بتائی گئی ہے۔ حکومت نے سردیوں سے پہلے مبینہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خدشات پر متعلقہ اداروں کو کارروائی کی ہدایت دی ہے۔

علامتی تصویر
رپورٹ کے مطابق، حکومتی سطح پر ایل پی جی کی مبینہ ذخیرہ اندوزی کے معاملے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر گیس کی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد متعلقہ اداروں کو صورتِ حال درست کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوگرا کی جانب سے 11.8 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی مقررہ قیمت 3,296 روپے بتائی گئی، جبکہ مارکیٹ میں اسی سلنڈر کی قیمت تقریباً 5,000 روپے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
ان دونوں قیمتوں کے درمیان 1,704 روپے کا فرق بنتا ہے، جو مقررہ قیمت سے تقریباً 52 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد رپورٹ کردہ قیمتوں پر مبنی ہیں؛ انہیں ملک بھر کے ہر شہر اور دکان کی یکساں قیمت نہیں سمجھنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق، حکومت نے وفاقی اور صوبائی اداروں کو باہمی رابطے کے ذریعے کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اوگرا نے بھی صوبائی حکومتوں اور بندرگاہوں کے آپریشنز اور کلیئرنس سے متعلق وفاقی حکام کو اصلاحی اقدامات تیز کرنے کے لیے کہا ہے۔
اس معاملے میں متعلقہ اداروں کا کردار اہم ہے، کیونکہ ایل پی جی کی فراہمی، درآمد، ترسیل اور مارکیٹ میں فروخت کے مختلف مراحل پر نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، مبینہ ذخیرہ اندوزی کی شکایات اور کسی مخصوص کاروبار یا فرد کے خلاف ثابت شدہ خلاف ورزی میں فرق رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی محدود ہے، وہاں بہت سے گھرانے کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے صارفین کے لیے سلنڈر کی قیمت میں نمایاں اضافہ ماہانہ گھریلو اخراجات پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے۔
سردیوں میں گیس کی طلب اور فراہمی سے متعلق مسائل کے باعث ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں کی نگرانی مزید اہم ہو جاتی ہے۔ اگر مقررہ قیمت اور مارکیٹ میں وصول کیے جانے والے نرخوں کے درمیان فرق برقرار رہے تو صارفین کو اضافی رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ماخذ: ڈان نیوز۔


