پاکستان میں 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی مدد درکار، 95 فیصد علاج سے محروم
عالمی ادارۂ صحت کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی نگہداشت درکار ہے، جبکہ ذہنی صحت کی خدمات تک محدود رسائی کے باعث علاج کا خلا تقریباً 95 فیصد ہے۔ حکومت نے اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 متعارف کرائی ہے۔

علامتی تصویر
حکومتِ پاکستان کے محکمۂ اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ اعداد یکم اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ کے موقع پر جاری کیے گئے۔ اسی موقع پر قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 کا بھی اجرا کیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے پالیسی کے اجرا کے موقع پر کہا کہ ذہنی صحت کا مسئلہ ملک کے لیے ایک ہنگامی چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومت کے مختلف اداروں، ماہرین اور معاشرے کے دیگر طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی رکھنے والے افراد کی شرح تقریباً 5 فیصد ہے، جبکہ علاج کا تخمینی خلا تقریباً 95 فیصد بتایا گیا ہے۔ یہ اعداد ذہنی صحت کی نگہداشت تک رسائی کی صورتِ حال کو ظاہر کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات کی بھی کمی ہے۔ پاکستان میں ہر ایک لاکھ آبادی کے لیے تقریباً 0.19 ماہر نفسیات دستیاب ہیں، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ اوسط ہر ایک لاکھ افراد کے لیے تقریباً 7 ہے۔
قومی ذہنی صحت پالیسی 2026 تا 2035 کا مقصد ذہنی صحت کی سہولتوں تک رسائی بہتر بنانا اور ضرورت مند افراد کو نگہداشت فراہم کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق اس سلسلے میں ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی طبی مراکز، تعلیمی اداروں اور کمیونٹی سطح پر فراہم کرنے کے اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔
اسلام آباد میں یکم اور 2 اکتوبر کو منعقد ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں تقریباً 800 شرکا نے بالمشافہ یا آن لائن شرکت کی۔ ان میں ملکی و بین الاقوامی ماہرینِ صحت، پالیسی ساز، جامعات کے نمائندے، اقوام متحدہ کے اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندے شامل تھے۔
کانفرنس کے دوران ذہنی صحت کی خدمات کو عام کرنے، بروقت تشخیص، ابتدائی مدد، کمیونٹی سطح پر سہولتوں کی فراہمی اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔
ماخذ: حکومتِ پاکستان، محکمۂ اطلاعات و نشریات؛ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان؛ عالمی ادارۂ صحت سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار۔


